Friday, February 7, 2014

ترکی میں اسلام پسندوں کی باہمی کشمکش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ترکی میں اسلام پسندوں کی باہمی کشمکش؛ چند غور طلب پہلو


احمد اویس



            یونی ورسٹی کے چند طالب علموں اور کچھ چھوٹے تاجروں نے 1960 کی دہائی کےآخر میں مل جل کر  ایک ہاسٹل کی بنیاد رکھی۔ جہاں طلبا کو رہایش کے علاوہ اچھے اخلاق سکھلانے اور بری صحبت سے بچانے کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا یہ اس ہاسٹل کی خاص بات تھی۔ جلد ہی یہ سلسلہ دور دراز سے آئے ہوئے طلبا کے والدین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان ہاسٹلوں میں زیر تربیت نوجوان بڑھتے چلے گئے اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو نئی نسل کی بہترین اور مبنی بر اخلاق تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے سکول کھولے ، ٹیوشن سنٹر بنائے اور معاشرے میں اسلام کی پیش کردہ اقدا رکو پروان چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

ترکی جو کبھی خلافت عثمانیہ کا صدر مقام اور مسلم دنیا کا مرکز ہوا کرتا تھا، وہاں کی پر شکوہ مساجد میں تب سے کچھ عرصہ پہلے عربی میں اذان دینے تک پر پابندی تھی۔ ریاست مکمل طور پر سیکولر تھی۔ اسلام کو اجتماعی زندگی میں کوئی دخل نہ تھا۔ مذہب کی بنیاد پر  کوئی تنظیم قائم نہیں ہو سکتی تھی۔  اس ماحول میں ان لوگوں نے دعوت و تبلیغ کو اپنا منہج بنایا۔  بغیر کسی تنظیمی بنیاد کے یہ لوگ اسلام  کا پیغام دل سے دل تک پھیلاتے چلے گئے۔ ان  کا کوئی دفتر تھا نہ کوئی عہدہ  ،کوئی بڑا کوئی چھوٹا نہ تھا۔ بس ایک لگن اور جستجو تھی جو ان سب کو آپس میں جوڑے ہوئے تھی۔

 1980 کی دہائی میں ان لوگوں نے پہلے اخبار اور بعد میں اپنا ریڈیو اور ٹی وی چینل بھی کھول لیا۔ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ترکی کا سب سے پہلا اخبار جو آن لائن ہوا وہ انہی لوگوں کی سوچ پر مبنی "روزنامہ زمان "تھا۔   یہ جریدے ترکی کے صف اول  میں شمار ہوتے ہیں۔ ملکی زبان  کے علاوہ دس مزید زبانوں میں بھی یہ اپنی خدمات دنیا بھر کے لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں۔ ان سب کا مقصد بھی  وہی تھا کہ معاشرے میں گرتی ہوئی اقدار کو بچایا جائے۔

سال پہ سال گزرتے رہے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل نا صرف ترکی کے اعلیٰ اداروں میں اپنی خدمات دینے لگے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں دن رات مصروف ہو گئے۔ ساتھ کے ساتھ انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے اور ہاسٹل دوسرے ملکوں میں بھی کھولنے شروع کر دیئے۔ دنیا کے 140 سے زائد  ممالک میں  آج ان  کے سکول چل رہے ہیں ۔ پچھلے دو عشروں سے یہ تعلیمی ادارے پاکستان کے کئی بڑے شہرو ں میں ہزار ہا بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم کےعلاوہ مذہبی اقدار سے آراستہ کر چکے ہیں۔ سینکڑوں ترک نوجوان مرد و زن اپنا دیس چھوڑ کر پاکستان میں  فروغ تعلیم کے اس مشن سے وابستہ ہیں۔

تعلیم و تربیت ہی ان کا اصل میدان ہے لیکن اس کے علاوہ خدمت خلق کے کاموں  میں بھی یہ کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ پاکستان میں زلزلہ متاثرین کی آباد کاری میں انہوں نے خاطر خواہ کام کیا۔ زلزلہ متاثرین کے علاوہ  جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرین کے لیے انہوں  کئی سو گھر بنا کر بھی دیئے۔ عید قربان پر گوشت کی تقسیم اور رمضان میں ہزاروں افراد کو افطار اس کے علاوہ ہیں ۔ پاکستان میں یہ لوگ اب تک آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر چکے ہیں ۔ صرف  چند سالوں میں مکمل ہونے والےمنصوبہ جات  کاتخمینہ 30ملین ڈالر سے زیادہ کا ہے۔  

یہ سب لوگ جو کسی باقاعدہ تنظیم کا حصہ نہیں بلکہ ترکی کی ایک روحانی  شخصیت فتح اللہ گولن کے افکار سے متاثر ہیں۔ ترکی کی عدالتوں میں ان پر کچھ عرصہ پہلے ملک کو سیکولر سے  "اسلامسٹ" سٹیٹ میں بدلنے کا الزام تھا چنانچہ  انہوں نے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی  اختیار کر لی۔ انہیں پنجاب یونی ورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دے رکھی ہے۔  اگرچہ یہ عملی سیاست سے دور ہیں مگر ترکی کی سیاست اور ریاستی اداروں میں ان کا اچھا خاصا وزن  موجود ہے۔  کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ترکی کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے اندر بھی موجود ہیں۔

ترکی کے مایہ ناز سائنسدان  نجم الدین اربکان نے 1969 میں قومی نظریہ (ترکی: Millî Görüş) پیش کیا۔ اپنی پہلی سیاسی جماعت "ملی نظام" کے نام سے قائم کی۔ اس سے پہلے وہ جرمنی سے ڈاکٹریٹ اورآٹوموبائل سیکٹر میں دقیق تحقیقات کرچکے تھے۔ان کی اس تحقیق اور تجربوں کی بدولت  ترکی اپنی پہلی گاڑی جو مقامی طور پر تیا ر کی گئی تھی، بنانے میں کامیاب ہوا۔  آج ترکی دنیا کا زیادہ گاڑیاں بنانے والا سولہواں اور یورپ کا چھٹا بڑا ملک ہے ۔ اور گاڑیوں کی ایکسپورٹ سے کثیر زرمبادلہ کما رہا ہے۔

اربکان کے والد خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں جج کے فرائض سر انجام دیتے رہے تھے۔ آپ خود سالہاسال تک استنبول کی یونی ورسٹی میں پڑھاتے رہے۔    ترکی کی ترقی خاص کر آٹو موبائل  سیکٹر میں اپنے وسیع بین الاقوامی تجربہ کی بنیاد پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔   انجن بنانے کی فیکٹری لگائی۔   ترکی کے تمام چیمبرز آف کامرس کی اجتماعی تنظیم کے سربراہ بھی رہے۔ 1969 میں سیاست کا آغاز کیا اور قونیہ سے اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جلد ہی ان کی جماعت پر اسلام پسندی کا لیبل لگا کر پابندی لگا دی گئی۔  ترکی کی سیکولر فوج اور عدالتیں یکے بعد دیگرے اربکان کی ایک کے بعد دوسری قائم ہونے والی جماعتوں پر پابندی لگاتی چلی گئیں۔ خود کئی سال تک ان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی رہی۔

1987 میں ان کی پارٹی( اس وقت رفاہ پارٹی کے نام سے وہ میدان سیاست میں موجود تھے) نے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور 1995 کے عام انتخابات میں یہ ترکی کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ نجم الدین اربکان ترکی کے پہلے اسلام پسند وزیر اعظم بنے۔ اگرچہ جلد ہی فوج نے ان سے استعفیٰ لے لیا لیکن انہوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں ترکی کی معیشت کو پاؤں پہ کھڑا کرنے کے لیے بنیادی کام کیے۔ بیرونی قرضوں سے آزاد بجٹ پیش کیا۔ ترقی پذیر مسلم ممالک پر مشتمل تجارتی بلاک ڈی 8 (Developing Eightبنایا۔

             رفاہ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد  فضیلت پارٹی  وجود میں آئی۔ اس کی ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ نے سکارف اتارنے سے انکا ر کردیا تو وہ پارٹی ہی بین کردی گئی۔ اسی کے ایک رہنما  طیب اردگان نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بنائی جو 2002 کے الیکشن میں فتح یاب ہوئی اور اس پارٹی نے اپنے پہلے وزیر اعظم کے طور پر عبد اللہ گل کو منتخب کروایا۔ ترکی کے فوجی چیف نے ان کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ بعد میں طیب اردگان نے وزیر اعظم کا عہدہ اور عبد اللہ گل نے وزارت خارجہ  کا قلم دان سنبھالا۔ عبد اللہ گل نے ترکی کے بیرونی دنیا سے تعلقات میں نئے دور کا آغاز کیا۔ یورپی یونین کی ممبرشپ جو ترکی کا ایک پرانا مسئلہ چل رہا تھا اس پر کافی پیش رفت کروائی۔ 2007 میں عبداللہ گل ترکی کے پہلے صدر بنے جن کی اہلیہ سکارف لیتی ہیں۔ عبداللہ گل مسلم اور غیر مسلم دنیا کے وہ واحد حکومتی سربراہ ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کے خلاف کاروائی پر باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھیجا۔

             جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی
(AKP)کے دور میں پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں میں سکارف پہننےکی اجازت ملی۔ دستور میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ فوج کے  سربراہ کو حکومت نے اپنی صوابدید سے مقرر کیا۔ سابق سربراہ سمیت  کئی فوجی افسران کو حکومت کے خلاف بغاوت پرسزا ہوئی۔ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنے لگا۔ جب یورپ اور امریکا کسادبازاری کا شکار تھے تو بھی ترکی کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی۔  بیروزگاری میں کمی اور ذاتی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر لائی گئی۔ نیٹو کا اہم اتحادی اور امریکا کے دباؤ کے باوجود افغانستان اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کیا۔ اسرائیل سے برسوں کے دوستانہ تعلقات کے باوجود سخت رویہ اپنایا۔ خاص طور پر فلسطینیوں کے محاصرہ کے خلاف امدادی جہاز بھیجا جس پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا ۔ اس قضیہ پراسرائیل کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ اور اسرائیل  20 ملین ڈالر ہرجانہ دینے پرتیار ہوا۔ بیرونی دنیا میں مسلم اور خاص کر خطہ کے عرب ممالک سے تعلقات میں گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔

             طیب اردگان نے مسلسل تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے۔ وہ ترکی کی تاریخ کے مقبول ترین رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔معاشی اور سیاسی کامیابیوں  کے باوجود پچھلے کچھ عرصہ سے ترکی میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیراعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ زیادہ تر مخالفین ان سیکولر لوگوں پر مشتمل ہیں جو اردگان کو ترکی کے سیکولر آئین کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ان کے خلاف جو مظاہرے ہوئے ان کے بارے میں میڈیا میں یہ آیا کہ وہ گولن تحریک کے لوگ ہیں۔ وزیراعظم نے ان سے سختی سے نبٹنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اور گولن تحریک والوں نے اس پر وزیر اعظم کے خلاف میڈیا میں محاذ کھول لیا۔ جب کہ معاشرے کے عام لوگ اس کشمکش کو خود ترکی کے لیے اچھا نہیں سمجھ رہے۔

             بظاہر ان دونوں گروہوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں، دونوں ایک طویل عرصہ سے ترکی کے سیکولر ماحول میں اسلام کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ گو کہ ان کا دائرہ عمل مختلف ہے مگر ان دونوں کا اصل دشمن ایک ہی ہے جو سیکولرزم کے نام سے راستے میں کھڑا ہے۔ اپنے اپنے انداز میں، وقت اور حالات کی مطابقت سے ان دونوں نے کسی نہ کسی حد تک سیکولرزم سے مفاہمت کی ہوئی ہے۔ ترکی کے مخصوص حالات میں اردگان کو گولن تحریک اور گولن تحریک کو اردگان کی ضرورت ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی انھی لوگوں کی مدد سے حکومت بنانے اور فوج کو سیاست سے بیدخل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اسی طرح گولن تحریک کے مشن کی کامیابی کے لیے موجودہ حکومتی پارٹی سے بہتر کوئی اور نہیں ۔

جب صورتحال زیادہ گھنبیر ہونے لگی اور مغربی میڈیا نے ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا تو دونوں جانب سے برف پگلنا شروع ہوئی۔ فتح اللہ گولن نے حکومت کے خلاف مظاہرین سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا ہے اور اپنے پیروکاروں کو حکومت سے محاذ آرائی سے منع کر دیا۔ دوسری جانب حکومت نے بھی معاملات کو سلجھانے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ اور نائب وزیراعظم نے خاص طور پر گولن تحریک کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے کی تردید کر دی ہے۔

             دنیا کے ہر جمہوری ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام سی بات ہے۔ لیکن یہاں سوچنے کی یہ بات ہے کہ ترکی میں ان مظاہرین کو اتنی زیادہ شدت سے خصوصا ًمغربی میڈیا نے کیوں پیش کیا؟اس سے پہلے مصر میں چند ہزار افراد کی تحریک پر میڈیا نے اتنا شور مچایاکہ فوج نے حکومت کی اصلاح کے نام پر لاکھوں لوگوں کی مرضی سے منتخب ہونے والی اسلام پسندحکومت کو چلتا کیا۔مغربی دانشور اس نظریہ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ملکی دستور اور قانون کا مذہب سے کوئی  ذرا سا بھی تعلق ہو۔ انہیں اس بات پر بھی حذر پہنچتی ہے جب لوگ اسلام کو ملکی نظام کا بالادست قانون بنانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ شہریوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے  انہیں مذہبی رسوم ادا کرنے کی بھرپور آزادی کی حمایت تو کرتے ہیں۔ لیکن اسلام کو اجتماعی زندگی میں وہ درجہ دینے کے روادار نہیں جس کے بغیر ایک مسلمان کا ایمان ہی نا مکمل ہے۔

  اس وقت "سیاسی اسلام" کی ناکامی کا جو ڈھنڈورا  پیٹا گیا ہے،  دنیا بھرمیں اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے اس کا ہدف ہیں۔ چاہے وہ مروجہ معنوں میں سیاست کر رہے ہوں یا نہیں۔ انہیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اسلام بحیثیت نظام اس زمانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ جو تنظیمیں  ملک کے نظم و نسق کو اسلام کے مطابق بدلنے کے لیے کوشاں تھیں انہیں جب اقتدار ملا  بھی تو وہ  ناکام رہیں۔لہذا جتنی آزادی تمہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے میسر ہے اسی پر اکتفا کرو۔  ہمیشہ کی طرح اس جنگ میں  بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ اندرونی طاقتوں کو بھی جانے میں یا انجنانے میں مدمقابل کیا گیا ہے۔ یہ اعلان جنگ کسی خاص ملک کسی خاص تحریک تک ہی محدود نہیں، ہر جگہ اللہ  کے دین  کے غلبہ کے لیے کام کرنے والے حضرات ان مشکلات کا شکارہیں۔  

تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کہانی ہر جگہ کی ایک ہی ہے۔ چاہے مصر میں منتخب حکومت کی برطرفی ہو، بنگلہ دیش میں سب سے بڑی اور مضبوط مذہبی اپوزیشن پر پابندیاں اور سزائیں ہوں۔ شام کےمسلمانوں پر ظلم و ستم ہوں۔ وسطی افریقہ اور برما میں مسلمانوں کا قتل و غارت ہو یا پاکستان میں پرائی جنگ لڑنے کے نتیجے میں امن و سکون کی بربادی ہو۔ ایسے میں ایک جیسے ذہن رکھنے والے لوگوں کو مل جل کر ہی اس مشترکہ دشمن سے نبٹنا چاہئے۔ لیکن اتحاد کی فضا قائم کرنا اس بارے میں بات کرنے سے کہیں مشکل ہے۔ یہ مسلم قیادتوں کا فرض ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے نئے سرے سے صفوں کو سیدھا کریں۔ اور اپنے فکری و تنظیمی اثاثوں کو صحیح سمت میں لگائیں تا کہ امت کو اس کے مثبت نتائج مل سکیں۔

Wednesday, December 4, 2013

اہل حق حریت آموز از حسین رضی اللہ عنہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اہل حق حریت آموز از حسینؓ  [1]

احمد اویس

محرم کی دس تاریخ اور ہجری سن 61   ( 680 سن عیسوی)کو سیدنا  حسین ا بن علی ؓ نے اپنی جان کی اور اپنے خاندان کی بچوں سمیت جو قربانی دی، وہ  تاریخ اسلام میں ایک عظیم قربانی قرار پائی۔  امام  حسین ؓ جس مقصدِ عظیم   کی خاطر گھر سے نکلے تھے  وہ  یہ تھا کہ اسلامی ریاست کے دستور میں کی گئی تحریف  کی اصلاح کر دی جائے۔ اصل میں یہی وہ نقطہ آغاز تھا جس کے تھوڑے عرصہ میں ہی مسلم معاشرے  میں وہ خرابیاں اور برائیاں رواج پائیں  جن  کی وجہ سے خلافت راشدہ جیسے مثالی اور عالی شان ادارے سے مسلمان محروم ہو گئے۔ تھوڑا سا غور کیا جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ  یہ اتنی بڑی تبدیلی تھی  جس کو ٹھیک کرنے کے لیے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پانے والے اور اپنی جوانی اور بڑھاپا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی بہترین سوسائٹی میں گزارنے والے حضرت امام حسینؓ   کیوں اس  نقطہ انحراف کے آگے کھڑے ہو گئے تھے۔ اس کوشش کا جو بھی انجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے مگر  امام نے اس خطرے میں کود کر اور مردانہ وار اس  کے نتائج کو انگیز کر کے جو چیز ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کا  وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جن کی حفاظت کے لئے ایک مومن اپنا سر بھی کٹوا دے اور اپنے بال بچوں  کی قربانی بھی دے دے تو اس مقصد کی خاطر یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے:

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت       حریت راز ہر اندر کام ریخت

خاست آں سر جلوہ خیر الاممﷺ       چوں سحاب قبلہ باراں درقدم
                          برزمین    کربلا   بارید   و       رفت      لالہ  در  ویرانہ ہا  کارید و رفت[2]                                                    
چودہ سو سال سے امام عالی مقام کی شہادت  ایک مینارہ نور کی مانند   مسلمانوں کی انتہائی پستی اور زوال کے عالم  میں بھی  اپنے سے بعد میں آنے والوں کو سچ کے رستے میں جان کی بازی لٹا دینے کا درس دیتی آ رہی ہے۔ ہر زمانے کے  حق پرستوں کو امام نے اپنے عمل سے جو مہمیز دی، وہ ہمیشہ  انہیں خدا سے باغی طاقتوروں کے سامنے  خد اکی کبریا ئی کا اعلان کرنے پر آمادہ کرتی رہی ہے ۔  اسلامی تاریخ کی آبرو انہی جوان مردوں سے قائم ہے، جنہوں نے غلط اقتدار اور مادی ترغیبات کے سامنے سپر نہیں ڈالی، اور صحیح مقصد کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیا۔  

حضرت امام حسین  رضی اللہ  عنہ کی شہادت کے ٹھیک  100 سال بعد امام احمد بن  حنبلؒ 780ء  میں  بغداد میں  پیدا ہوئے۔ آپ کو دس لاکھ حدیثیں یاد تھیں۔ امام شافعی ؒ ان کے بڑے معترف اور قدردان تھے، بغداد سے جاتے ہوئے انھوں نے فرمایا" میں بغداد چھوڑ کر جا رہا ہوں، اس حالت میں کہ وہاں احمد بن حنبل سے بڑھ کر نہ کوئی متقی ہے نہ کوئی فقہیہ"۔ ساری زندگی رسول اللہ کی سنت کی پیروی اور حفاظت کرتے گزار دی۔ ان کے زمانے میں  فتنہ خلق قرآن کا مسئلہ پوری شد و مد سے سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھ رہا تھا۔ تمام علما کرام کے لئے خلیفہ کی طرف سے لازم کر دیا گیا تھا کہ وہ  خلق قرآن کے عقیدہ کو تسلیم کریں ورنہ اختلاف کی صورت میں سخت سے سخت سزاؤں کے لئے تیار رہیں۔ امامِ سنت   کو اس حکم عدولی پر جب دارالخلافہ لایا گیا تو ان کے پاؤں میں چار بیڑیاں پڑی تھیں، تین دن تک ان سے اس مسئلہ پر مناظرہ کیا گیا، لیکن وہ اپنے عقیدہ سے نہیں ہٹے۔ چوتھے دن والئ    بغداد کو لایا گیا، اس نے کہا کہ احمد! تم کو اپنی زندگی ایسی دوبھر ہےٗ خلیفہ تم کو اپنی تلوار سے قتل نہیں کرے گا لیکن اس نے قسم کھائی ہے کہ اگر تم نے اس کی بات قبول نہ کی تو مار پر مار پڑے گی اور تم کو ایسی جگہ ڈال دیا جائے گا جہاں کبھی سورج نہیں آئے گا۔ اس کے بعد امام کو خلیفہ  معتصم کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کو اس انکار  پر 28 کوڑے لگائے گئے۔ اور کیفیت یہ تھی کہ  ایک تازہ جلّاد صرف دو کوڑے لگاتا تھا، پھر دوسرا جلاد بلایا جاتا تھا، امام احمد ہر کوڑے پر فرماتے تھے:" میرے سامنے اللہ کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کچھ پیش کرو تو میں اس کوما ن لوں۔" امامِ وقت  کو روزے کی حالت میں جو کوڑے لگائے گئے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ایک کوڑا ہاتھی پر پڑتا تو چیخ مار کر بھاگ جاتا۔ آپ کا انتقال 855ء میں ہوا۔

1263ء میں شمالی عراق کے ایک  تاریخی شہر حرّان  میں تقی الد ین احمد ابن تیمیہ کی ولادت ہوئی ۔ اس  زمانہ  میں تا تاریوں  کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے پورا عالم اسلام لرزہ بر اندام تھا۔ ابن تیمیہ ابھی سات برس کے تھے کہ ان کا آبائی وطن حرّان تا تاری حملہ کی زد میں آگیا۔ مجبور ہو کر ان کا خاندان ہجرت کر کے شام کے شہر دمشق  منتقل ہو گیا۔ ابن تیمیہ نے اپنے زمانہ کے تمام مروجہ علوم کی تحصیل کی۔ ا ن کی تصنیفات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا زندگی کا مطالعہ وسیع اور عمیق تھا۔ انھوں  نے عوام سے الگ تھلگ کسی علمی گوشہ میں زندگی نہیں گزاری تھی۔22 سال کی عمر میں شیخ الاسلام نے  اپنے والد کی وفات پر انہی کی مسند درس کو زینت دی۔

1299ء میں تا تاریوں نے شام کی طرف قصد کیا۔  اپنی پہلی جنگ میں ہی  تا تاریوں نے مصر اور شام کی افواج کو شکست سے دوچار کر دیا۔ دمشق کے باہر تا تاریوں کا پڑاؤ تھا۔ شہر کے لوگوں کے مشورے سے یہ طے پایا کہ  امام ابن تیمیہ  تا تاری فرمانروا قاز ان  سے ملاقات کریں گے۔ شیخ نے قاز ان کو بہت نصیت کی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے پر ملامت کی۔ ان کے ساتھی ان کی جرأت پر ڈرے جا رہے تھے کہ تا تار بادشاہ کا غضب ان پر ابھی ٹوٹا کہ اب۔ لیکن قاز ان شیخ سے بہت مرعوب ہوا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ شیخ نے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرائی: خدایا اگر آپ کے نزدیک قاز ان کا اس جنگ سے مقصد تیرے کلمہ کی بلندی اور جہاد فی سبیل اللہ ہے تو اس کی مدد فرما اور اگر سلطنت دنیا اور حرص و ہوس ہے تو اس سے تو سمجھ لے۔

تین سال بعد کچھ حالات اس قسم کے پیش آگئے کہ شیخ کو مصر طلب کر لیا گیا اور  وہاں ابن تیمیہ کے عقائد پر اعتراضات کیے گئے۔ اور ان پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے  شیخ الاسلام کو پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ایک سال کے بعد یعنی 1307ء میں ان کے رہائی کے بدلے ان کو کہا گیا وہ اپنے عقائد سے رجوع کر لیں۔ جب اس کی اطلاع کی گئی تو ابن تیمیہ نے صاف انکار کر دیا۔ چھ مرتبہ ان کو دعوت دی گئی مگر انھوں نے منظور نہیں کیا۔

ایک سال  سے زائد عرصہ تک شیخ قید میں رہے۔ لیکن یہ ان کی پہلی اور آخری اسیری نہ تھی۔ ابھی ان کی رہائی کو چند ماہ ہی گذرے تھے کہ دوبارہ ان کی نظر بندی کے احکامات آگئے ۔1309 ء میں مصر کے نئے بادشاہ نے انہیں شہر بدر کردیا۔1318ء میں ان کے ایک فتویٰ کی بنیاد پر سلطان کی طرف سے  فرمان جاری کیا گیا اور انہیں وہ مخصوص فتویٰ  دینے سے روک دیا گیا۔ مگر شیخ کو یہ گوارا نہ تھا کہ حکومت کے جبر کی وجہ سے جس چیز کو وہ حق پر سمجھتے ہیں، اس سے رک جائیں۔ چنانچہ 1320ء میں انہیں قلعہ میں نظر بند کر دیا گیا۔

آخری مرتبہ ان کے محبوس کئے جانے کا فرمان  1326ء میں جاری ہوا۔ اس قید میں ہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے وفات پائی۔ قلعہ میں ان کے ساتھ ان کے بھائی اور مایہ ناز شاگرد ابن قیم بھی  رہے۔ دو سال تک شیخ نے  قید خانہ میں  اپنی تصنیفات پر کام جاری رکھا۔ لیکن  ان کے مخالفین کے دباؤ پر ان سے یہ سہولت بھی چھین لی گئی۔ بعد میں وہ کوئلے سے تحریر کرتے رہے۔ ان کو اس حالت میں بھی اپنے مسلک کی صحت اور بے گنا ہی کا یقین تھا، وہ اپنا جرم اتنا ہی سمجھتے تھے کہ انہوں نے ایک مسئلہ شرعی میں حاکم وقت کی بات نہیں مانی اور جس کو وہ حق سمجھتے تھے اس پر اڑے رہے، لیکن وہ اپنے اس جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو ایمان و یقین کا مقتضا سمجھتے تھے: " ان کا بڑے سے بڑا الزام یہ ہے کہ ایک انسان کی (جو دوسرے انسانوں کی طرح خدا کا ایک بندہ ہے) حکم عدولی کی ۔ مخلوق خواہ حاکم وقت ہو یا سلطانِ دوراں جب اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مخالفت کرے گا تو اس کی بات کبھی نہیں مانی جائے گی، بلکہ باتفاق مسلمین اللہ اور رسول کی مخالفت کی حالت میں اس کی اطاعت جائز ہی نہیں۔"

            1903ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہونے والے سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بطور صحافی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ابھی 24 برس کے تھے تو ایک دن  دلی کی جامع مسجد میں مولانا  محمد علی جوہر کی ہندو مسلم فسادات پر ایک تقریر  سنی  ۔اس سے متاثر ہو کر اپنی پہلی کتاب  "الجہاد فی الاسلام" لکھی ۔ جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا: اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔  علامہ اقبال  ہی کی دعوت پر دکن کو خیرباد کہہ کر  پنجاب میں سکونت اختیار کی اور اپنے علمی اور تحقیقی کام  سے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو نظریاتی اساس فراہم کی۔
   
           11 مئی 1953ء کو لاہور کی فوجی عدالت نے  سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کو سزائے موت سنا دی۔ جرم اتنا تھا کہ  سید مودودی نے "قادیانی مسئلہ" کے نام سے ایک تحریر لکھی تھی  جس کو بنیاد بنا کر  ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔   اس کے علاوہ ان پر حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے کی فرد جرم بھی عائد کی گئی۔ مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں سے ایک ہفتہ تک  لاہور کے قلعہ میں  تفتیش کی گئی اور بالآخر مولانا  کو سزائے موت اور دوسرے ساتھیوں کو قید کی سزا سنائی گئی۔  ان کے جیل کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب مولانا کو سزا کا علم ہوا تو ان پر کوئی خو ف و ہراس  طاری نہ ہوا۔ اور جب انہیں عام لباس کی بجائے سزائے موت کے قیدیوں کا مخصوص  لباس پہنا دیا گیا تو وہ اسی  لباس میں بڑے اطمینان سے گہری نیند سوگئے۔ جیل کے حکام حیران  ہو رہے تھے کہ  وہ خوفزدہ اور پریشان ہونے کی بجائے اتنے مطمئن اور سکون میں کیسے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس سزا کے خلاف کمانڈر انچیف سے رحم کی درخواست کر نا  چاہتے ہیں  تو آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ اگر خدا نے میری موت کا فیصلہ کر دیا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور اگر خدا نے فیصلہ نہیں کیا تو یہ لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

سید قطب  1906ء  میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونی ور سٹی اور امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ مصری معاشرے میں ایک شاعر اور  ادیب کی حیثیت سے شہرت پائی۔1954ء میں  مصر کی حکومت نے ایک اخبار "اخوان المسلمون"  کو اس لئے بند کر دیا کہ اس نے  حکومت کے  انگریزوں سے ایک معاہدے کی مخالفت کی تھی۔ متعدد افراد کو موت کی سزائیں دی گئیں جب کہ جریدے کے ایڈیٹر سید قطب کو گرفتار کر لیا گیا۔ جیل میں سید قطب پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ انہیں آگ سے داغا گیا، پولیس کے کتوں نے انہیں گھسیٹا، ان کے سر پر مسلسل کبھی گرم اور کبھی ٹھنڈا پانی انڈیلا گیا، انہیں لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا، دل آزار الفاظ اور اشاروں سے ان کی توہین کی گئی۔  عدالت کی طرف سے  انہیں 15 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ حکومت کا ایک نمائندہ انہیں جیل میں ملنے گیا اور انہیں پیشکش کی کہ اگر آپ چند سطریں معافی نامہ کی لکھ دیں تو آپ کو رہا کر دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں سید قطب نے فرمایا" مجھے ان لوگو ں پر تعجب آتا ہے کہ جو مظلوم کو کہتے ہیں کہ ظالم سے معافی مانگ لے۔ خدا کی قسم! اگر معافی کے چند الفاظ مجھے پھانسی سے بھی نجات دے سکتے ہوں تو میں تب بھی کہنے کے لئے تیار نہ ہوں گا۔ اور میں اپنے رب کے حضور اس حال میں پیش ہونا پسند کروں گا کہ میں اس سے خوش ہوں اور وہ مجھ سے خوش ہو۔"

سید قطب کی آخری تصنیف "معالم فی الطریق"  (Milestones) ہے۔ اس میں انہوں نے اسلامی نظریہ اور اسلامی تنظیم کے بنیادی خدوخال بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کا مرکزی خیال  یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے صدر اول میں اسلامی معاشرہ ایک مستقل اور جداگانہ معاشرہ کی صورت میں ترقی و نمو کے فطری مراحل طے کرتا ہوا بام عروج کو پہنچا تھا اسی طرح آج بھی ویسا صحیح اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لیے اسی طریق کو اختیار کیا جانا لازم ہے۔ اس اسلامی معاشرے کو ارد گرد کے جاہلی معاشروں سے الگ رہ کر اپنا تشخص قائم کرنا ہو گا۔ اس کتاب کے مندر جات کو بنیاد بنا کر عدالت میں یہ الزام لگایا گیا کہ سید قطب حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ اسی اظہار رائے کے جرم میں   25 اگست 1966 ء کو سید قطب کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

یہ ہے وہ سیدھا اور سچا راستہ جو کبھی قید و بند کی صعوبتیں جھیلتا ہےٗ کبھی تشدد  اور ہجرت  کا سامنا کرتا ہے اور کبھی پھانسی کے پھندوں پہ جھول جاتا ہے لیکن  سچ کی راہوں پہ چلنے والے صورت خورشید  ہر نئی صبح کو  پوری  آب و تاب اور چمک دمک کے ساتھ گزشتہ  شب کے اندھیروں کو مٹانے کے لئے پھر سے آ موجود ہوتے ہیں۔ ایک اللہ سے ڈرنے والے بھلا کب کسی کے آگے  سجدہ ریز ہوتے ہیں۔  وہ تو زمانے کی ہر غلط  ریت پر سوال کرتے ہیں۔   ظلم کے رواج کو بدلنے کے لئے آوازہ  بلند کرتے ہیں۔   جہالت کے خلاف  صداقت کا عَلم اٹھاتے ہیں۔ جب  سبھی سو رہے ہوں تو  اذان دینے کا کام کسی کو تو کرنا ہی ہوتا۔   یقیناً دنیا کے کسی کونے میں آج بھی حسین کے نام لیوا یزیدِ وقت سے نبرد آزما ہوں گے۔ یزیدیت اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت حسینیت کا نام و نشان  مٹانے کے درپے ہو گی۔ وہ یزید کو شکست دے سکیں یا نہیں،  اس روز، جب  سب گروہوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ پیش کیا جائے گا، فیصلہ ہو جائے گا کہ فتح کس کی ہے اور اصل میں شکست کون کھائے بیٹھا ہے۔

مگر کیا کِیا  جائے کوفیوں کا کہ دل ان کے امام حسین کے ساتھ ہیں پر تلواریں یزید کی حمایت میں نکلتی ہیں ۔اپنے سامنے کی سچائی  کو جانتے  بوجھتے جھٹلانے والے لوگ  ہمیشہ یزید کے لشکروں کو تقویت دیتے ہیں۔ حسین کے ساتھ تو وہ کھڑ ا ہو گا جسے خدا نے سچ  کی  توفیق دی ہو۔ سچائی کے متلاشیوں کے لیے شہدا کے مقدس لہو سے سیراب ،کربلا کی سرزمین سے پھوٹتے گل سرسبدکا پیغام تو بس یہی ہے:

"جو شخص کسی ایسے بادشاہ کو دیکھے جو اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ دے، سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور ظلم و عدوان کا معاملہ کرے اور یہ شخص اس  کے ایسے افعال و اعمال کو دیکھنے کے باوجود کسی قول یا فعل سے اس کی مخالفت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ اس کو بھی اسی ظالم بادشاہ کے ساتھ اسی کے مقام(دوزخ) میں پہنچا دے۔"[3]

) نوٹ: تاریخی واقعات "تاریخ دعوت و عزیمت" از سید ابو الحسن علی ندوی سے لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہادت امام حسینؓ ، شہید کربلا، جادہ و منزل اور قادیانی مسئلہ سے مدد لی گئی ہے۔)




[1]  علامه اقبال کا پورا شعر یوں ہے:
در نوائے زندگی سوز از حسینؓ       اہل حق حریت آموز از حسینؓ
ترجمہ: زندگی کے نغمے میں حضرت حسینؓ کی وجہ سے سوز پیدا ہوا اور اہل حق نے انہیں سے آزادی کا سبق لیا۔

 [2]  ترجمہ: جب خلافت نے قرآن مجید سے تعلق توڑ لیا، حریت کے حلق میں زہر ڈال دیا گیا۔ یہ حالت دیکھ کر سب سے بہتر امت کا وہ نمایاں ترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلے کی جانب سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے اور اٹھتے ہی جل تھل ایک کر دیتی ہے۔ یہ گھنگھور گھٹا کربلا کی زمین پر برسی اور چھٹ گئی۔ ویرانوں کو لالہ زار بنا دیا اور چل دی۔

[3]  حضرت حسین ؓ کے میدان جہاد میں ایک خطبہ سے اقتباس۔

Monday, July 8, 2013

اسلام پسند پھر سے دوراہے پرہیں!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام پسند پھر سے دوراہے پرہیں!
احمد اویس
ڈاکٹر محمد مرسی  کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر مصر کی افواج نے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے سبب انہیں  معزول کر کے  گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ ہی میڈیا میں گردش کرتی افواہوں کے مطابق اخوان المسلون کے سربراہ اور ان کی ٹیم کو بھی گرفتار کر کے اسی جیل میں بند کر دیا گیا جہاں پر مصر کے عوام پر بد ترین آمریت مسلط کرنے والے سابق صدر حسنی مبار ک کو رکھا گیا تھا۔ جیل کے باہر جیسے  حسنی مبارک کے چلے جانے پر عوام خوشی سے بے قابو ہوتے جا رہے تھے اسی سے ملتے جلتے ردعمل کا اظہار عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے صدر مرسی کے جانے پر بھی کیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر کے تجزیہ کار اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔ مغرب اور مغرب کے ہم پیالہ دانشور اخوان المسلون پر  ناتجربہ کاری ، غلط حکمت عملی  ، پارٹی   پالیسیوں کا حکومت پر اثر انداز  ہونا، معیشت کا عدم استحکام اور خارجہ پالیسی کی ناکامی وغیرہ وغیرہ جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔ جب کہ مذہب سے دلچسپی رکھنے والے رہنما  سارا ملبہ امریکا اور اسرائیل پر ڈال کر بری ذمہ ہو رہے ہیں۔ بات کوئی بھی ہو، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس سقوط  سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو صدمہ پہنچا اور اسلام کو جمہوری اور دستوری انداز میں نافذ کرنے کے راستے مزید مشکل اور فکری طور پر مبہم ہو گئے ہیں۔
اخوان المسلون دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں سے  زیادہ عمر اور تجربہ رکھتی ہے۔  ایک طویل عرصے تک اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے کارکنوں نے اپنے عزم اور حوصلے پست نہیں ہونے دئیےاور   حکومت قائم کر کے یہ دکھا دیا کہ سب مزاحمتیں صبر اور جہد مسلسل سے بالآخر دم توڑ دیتی ہیں۔ اخوان کے کارکنوں پر جو ظلم و ستم جیلوں کے اندر اور باہر ڈھائے گئے ہیں وہ  انسانی دنیا کو درندوں کی آماجگاہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اخوان نے نا صرف مصر کے حالات کو بدلنے میں خاطر خواہ حصہ ڈالا بلکہ پورے عالم عرب میں اپنی ذیلی تنظیموں کے ذریعے اپنے پیغام کو ہر درد دل رکھنے والے فرد تک پہنچایا۔ ان کے طریقہ کار  کی بنیاد  شروع ہی   سے دعوت اور خدمت رہی ۔ البتہ ماضی میں  جب جبر سہتے سہتے   حد ہو گئی تو اخوان کے کچھ  نوجوانوں نے طاقت کے ذریعے بھی حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن تنظیم کے مثالی نظم و ضبط  نے انہیں واپس دعوتی اور دستوری جدوجہد پر آمادہ کر لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ باب مکمل بند ہو گیا جب ہی تو مصر کے عوام نے اپنی آزاد رائے کا وزن اخوان کے پلڑے میں ڈالا۔
یہاں ایک دفعہ پھر غور و فکر کرنے والے اسلام پسندوں کو یہ مرحلہ درپیش ہے کہ آخر اخوان کی تحریک میں کیا سقم رہ گیا تھا کہ انہیں ایک سال میں ہی مسترد کر دیا گیا۔ کیا بنیادی طور پر  یہ بات ہی غلط ہے کہ جمہوریت  کے راستے اسلام آ ہی نہیں سکتا؟  یا فوج کی مدد کے بغیر اسلامی انقلاب جڑ نہیں پکڑسکتا۔ الجزائر کی فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے  کے بعد  مصر کی فوج  نے اس شبہ کو مزید تقویت دی ہے کہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ دراصل مسلم ممالک کی افواج ہیں۔ جن کا سارا ناک و نقشہ  مغرب نے اپنی ضرورتوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا ہے۔یا  اگر اسلام پسند ملک کے اندر کے  اداروں اور گروہوں  کو قابو کر بھی لیتے ہیں تو بیرونی حملہ آوروں سے مزاحمت کیسے کریں گے؟ جب کہ مسلم ممالک کا کوئی اتحاد غیر مسلموں سے بچاؤ کے لیے موجود نہیں ہے۔ طالبان  کا عروج و زوال اس کی مثال ہے۔ عالم اسلام میں  یہ مکتبہ فکر بھی  مقبول ہے کہ حکومت سازی  کے لئے جہدو جہد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ حکمران تو عوام کا عکس ہوتے ہیں۔ اچھے اعمال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انعام کے طور پر اچھے حکمران عطا کر دیتے ہیں۔ تبلیغی جماعت  سے وابستہ لوگ ان ساری چیزوں  کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ گو کہ ان کا بظاہر کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے لیکن معاشرے میں ان کا وزن نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔
ہمارا نقطہ نظر کوئی بھی ہو، ہم سب مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی ایک ملک میں یا کسی ایک تنظیم کی ناکامی اسلام کی ناکامی نہیں ہے۔ اسلام کو تو بہرحال  پوری دنیا میں غالب آنا ہے۔ اسلام کے نفاذ کے جتنے راستے بھی  بیان کیے جاتے ہیں چاہے وہ  طاقت کےحصول کے بعد میدان جہاد سے متعلق ہوں یا محض دعوتی اسلوب تک ہی بات ختم ہو جاتی ہو،سیکولر لوگوں  کے ساتھ مفاہمت ہو یا مذہبی طبقات  کا اکٹھ  ہو ان سب کا تھوڑا بہت تجربہ پچھلی دو دہائیوں میں  دنیا کے مختلف خطوں میں تقریبا ہو چکا ہے۔ ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں اور کہاں کہاں کمزوری رہ گئی  ہے  ان کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت کے حالات کے مطابق کیا لائحہ عمل ترتیب دینا چاہئے یہ آج دنیا بھر کی تحریک اسلامی کے لیے اہم سوال ہے  اور اسے عمل کے قالب میں ڈھالنا اصل چیلنج ہے۔

(یہ تحریر قلم کارواں بلاگ پر 7 جولائی 2013ء  کی اشاعت میں شائع ہو چکی ہے۔ http://www.qalamkarwan.com/2013/07/islam-pasand-daorahay-par.html)