Monday, October 1, 2012

مسافران شوق سے چند باتیں---حج (سچ ٹی وی).


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مسافر ان ِشوق سے چند باتیں
احمد اویس
حج پر جانے کا شوق کسے نہیں ہوتا۔ سبز گنبد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ ساری ساری عمر تنکا تنکا جوڑ کر  زاد راہ اکھٹا کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہی ہیں جو اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات تک کو قربان کر کے اس عظیم سفر میں جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ ابھی تو بیٹی کو رخصت کرنے کا سامان بھی میسر نہیں  ہے، ابھی تو کرایہ کے مکان سے چھٹکارا بھی نہیں ملا۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ  دربدر کی ٹھوکریں کھاتے بڑھاپا آگیا ہے مگر ابھی تو کوئی جمع پونجی نہیں ہے جو اس عمر میں ہمارے یا ہمارے بچوں کے کام آئے گی۔ میری زندگی کی شاید تھوڑی سی مدت رہ گئی ہے  بس ایک ہی خواہش ہے کہ کسی طرح  اپنی ان اندھی ہوتی  آنکھوں سے اللہ جی کا گھر دیکھ لوں۔ پیارے نبی جی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک کا دیدار کر لوں۔ مجھ سے چلنے پھرنے کی نعمت چھینی جا رہی ہے بس کسی طرح اپنے سب سے بڑےمحبوب کے در کا ایک طواف کر لوں۔ساری عمر گناہ کرتے کرتے گزار دی۔ اب بہت شرمندہ ہوں۔ چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے اس رب کریم کی خوشنودی کے لیے حج کر لوں، اس ذات سے تو پوری امید ہے کہ حج کے بعد میں ایسے ہو جاؤں گا کہ جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے نکلا ہوں۔
ہم سب گواہ ہیں کہ صرف شوق ہی ایک ایسا اثاثہ ہے جو اس سفر پر جانے کے لیے درکار ہے۔ آپ کی آنکھیں اپنے پیاروں کو  نہ دیکھ سکتی ہوں۔ آپ اپنے پیروں پر چل کر محلّہ کی مسجد تک نہ جا سکتے ہوں۔ شوگر آپ کے کنٹرول سے باہر ہو۔ ہائی بلڈ پریشر سے آپ کی زندگی اجیرن ہو گئی ہو۔ کمر سیدھی کر کے آپ کھڑے نہ ہو سکتے ہوں۔ دل کے والو بند ہوں ۔ جوڑ جوڑ دکھتا ہو۔ اس گھر کی برکت سے سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پرانے پرانے مرض یوں ختم ہوتے ہیں جیسے سرے سے ان کا وجود  ہی نہ ہو۔ ورنہ ایسے بد نصیب بھی ہیں کہ  جو سب کچھ ہوتے ہوئے  بھی حج کی سعادت سے محروم رہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حج کا سفر آسان بہرحال نہیں ہے۔ اس کے لیے پہلےتو ایک اچھی خاصی رقم درکار ہے ۔ ہمارے ملک کی اکثریت آبادی اپنی عمرکے آخری حصے میں حج کے لیے اس لیے بھی نکلتے ہیں کہ عمر بھر ان کے پاس اتنی رقم جمع ہی نہیں ہو پاتی کہ وہ اپنے شوق اور فرض کی تکمیل کر سکیں۔ پھر جسمانی صحت اور قوت  کا بھی خاصا امتحان ہوتا ہے۔ انسان کی طبیعت اور رویہ کی آزمائش ہوتی ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کی اوپر سے ملمع کاری کی تہہ اتر کر ان کا اصل چہرا سامنے آجاتا ہے۔بندہ مومن کے ایمان اور محبت کا تو ہر وقت  پتہ چلتا رہتا ہے۔ صبر اور برداشت ہر لمحہ مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں۔ گھر کی سہولیات اور بچوں کی یاد بھی دامن پکڑنے  آجاتی ہیں۔ ایسے میں ایک حاجی سے بہت سی ایسی باتیں ہو جاتیں ہیں جو کہ نہیں ہونی چاہیں تھیں۔
سب سے زیادہ تو ایک حاجی سے جس چیز کی اُمید کی جاتی ہے اور سب سے زیادہ جس چیز میں کوتاہی ہوتی ہے وہ نظم و ضبط کا نہ ہونا ہے۔ ویسے تو ہمارا دین ہمیں نظم و ضبط کی ہر جگہ تلقین کرتا ہے۔ نماز باجماعت اس لیے پڑھائی جاتی ہے تا کہ عام زندگی میں مل جل کر اُٹھنا بیٹھنا آجائے۔ رمضان کے روزے ساری دنیا میں اکھٹے رکھے جاتے ہیں ۔ اسی طرح حج جیسے  بڑے  اجتماع میں اگر نظم و ضبط میں جھول رہ جائے تو بڑے بڑے حادثات کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسروں کو تکلیف دے کر اپنی نیکیوں کو گناہوں میں تبدیل کرناتو  یقیناً عقل مندی کا تقاضا نہیں ہے۔ آپ گھر سے کافی پہلے نکلتے ہیں تو حاجی کیمپ میں انتظار کے صبر آزما لمحات سے گزرنا پڑتا ہے۔ فلائٹس کا تاخیر سے آنا، رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونا، ٹرانسپورٹ  اور ہجوم کی مشکلات ان سب کو اگر انفرادی طور پر منتظمین کی ہدایات کے مطابق ترتیب دیا جائے تو اپنی  اور اپنے ساتھ والے حاجی صاحبان کے لیےبھی  خاصی آسانی کا سبب بن سکتا ہے۔
حج کی تیاری اور اس کے مسائل سیکھنے کی طرف بالعموم ہمارے دیہاتی  پس منظر والے حجاج کرام کی توجہ نہیں ہوتی۔ بہت تکلیف  دہ بات ہے کہ اتنی آرزؤں اور زندگی بھر کی کمائی خرچ کرنے کے بعد یہ با برکت سفر کیا جائے اور پھر بھی اس  سے فائدہ اٹھانے کی بجائے نقصان کرا بیٹھیں۔ جی ہاں، جب لوگوں سے غلطیوں پہ غلطیاں ہوتی ہیں تو  دم پہ دم پڑتا ہے جس سے حاجی صاحب کا اپنا بھی دم نکل جاتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جب سے آپ نے ارادہ کیا ہے تب سے ہی اس کی تیاری بھی شروع کر دیں۔ اگر کسی ایسے ساتھی کا بندوبست ہو سکے جس کو ساری تفصیل کا علم ہو تو اس کے ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کریں۔ گروپ میں موجود کوئی عالم دین ہوں تو وہ یہ خدمت اچھے طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں۔ ہمارے نجی میڈیا چینلز کو بھی چاہئے کہ اتنے اہم مسئلے میں لوگوں کی رہنمائی کریں۔
ایک اور بات فقہی اختلافات کے متعلق بھی سمجھنی چاہئے۔ جو اس قسم کے اختلافات ہوتے ہیں ان پر خوامخواہ کسی ایک طریقہ پر اصرار کرنا اور دوسرے کو غلط کہنا فساد کی جڑ ہے۔ جس سے شیطان جو پہلے ہی  حاجی سے خائف ہوتا ہے اس کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ آپ کا حج خراب کرے۔ بنیادی بات تو یہی ہے کہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑو نہیں"۔منیٰ میں اور عرفات میں ان خرافات میں پڑ کر آپ کسی امام کی حمایت نہیں بڑھا رہے ہوتے بلکہ اپنے حج کا ثواب ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔سعودی حکومت اور علما کو بھی چاہیے کہ وہ اس ضمن میں اگر اتفاق رائے ہو سکے تو کر لیں ورنہ کم از کم اتنا تو کریں کہ اپنے متعین کردہ رہنماؤں کو دوسرے مسلکوں کی تعلیم بھی دیں تا کہ  وہ لوگوں سے اُلجھنے کی بجائے ان کی مدد کرنے والے بنیں۔ پھر کچھ ایسی آسانیاں بھی سعودی علما نے اجتہاد کے ذریعے حجاج کرام کے لیے نکالی ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کے حج کو آسان بنایا گیا۔ مگر مشکل یہی آتی ہے کہ دیگر ممالک سے آئے ہوئے حجاج کو ان کے مقامی علما نے سختی سے ایسی چیزوں کی پیروی سے روکا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر رمی کے اوقات کو دن اور رات پر محیط کرنا   اور احرام اتارنے کے بعد قربانی  کرنے کو سعودی بالکل ٹھیک  سمجھتے ہیں۔ انتظامی اعتبار سے قریب قریب یہ ناممکن بھی ہے کہ سبھی لوگ  مغرب سے پہلے پہلے رمی کر لیں اوریہ بھی مشکل ہے کہ  سب کی قربانی صبح صبح ہی ہو جائے اور  حاجی اطمینان سے احرام اُتار کر دیگر فرائض سر انجام دے سکے۔ اس سلسلے میں دیگر ممالک کے علما سے مشاورت کر کے انہیں بھی اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے۔
صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ مگر آپ سوچ سکتے ہیں کہ دنیا بھر کے چنیدہ  مسلمانوں کے اجتماع میں  صفائی کی کیا حالت ہو گی۔ ویسے تو اگر اتنا بڑا مجمع خدا کے منکروں کا بھی ہو تب بھی صفائی ایک مسئلہ ہو گا ہی،مگر مسلمانوں کو بہرحال بہتر رویہ اختیار کرنا چاہے۔ منیٰ میں اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری سے ہر طرح کا کوڑا کرکٹ  مقررہ جگہ پر ڈال دے تو کافی بہتر ماحول نظر آسکتا ہے۔ اسی طرح کھانسی زکام تو وہاں کی عام بیماری ہے۔ مگر جگہ جگہ تھوکنے کو اگر روکا جا سکے تو  ہم اپنے نصف ایمان کی حفاظت بہتر انداز میں کر سکیں گے۔
لڑائی جھگڑا تو آپ کے کریم رب کو اتنا ناپسند ہے کہ خاص طور پر قرآن مجید میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ اور عام تجربہ ہے کہ یہ ایک حاجی کا سب سے نازک پہلو ہوتاہے۔ گھر سے دور رہنا اچھا خاصا مجاہدہ ہے۔ اور پھر اتنا سارا رش اور ہجوم  اوپر سے کوئی بیماری آجائے یا ویسے ہی قوت ارادی میں  ضعف ہو تو بھلے سے بھلا انسان بھی چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ یہ بات ذہن میں ہر وقت یاد رکھنی چاہیے اور اپنے ساتھیوں کو بھی یاد دلاتے رہنا چاہیے کہ جیسے ہی آپ نے کوئی ایسی ویسی بات کی جو ربّ کو ناراض کرنے کا باعث ہو سکتی ہو تو آپ کا قبول ہوا ہوا حج ٹھکرایا جا سکتا ہے۔
حج ختم ہونے کے بعد کچھ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ  بس جی اب ہمارے گناہوں کا میڑ دوبارہ زیرو سے شروع ہو گیا ہے۔ چنانچہ وہ کچھ اتنا خیال نہیں رکھ پاتے جتنا حج سے پہلے رکھتے تھے۔  ہماری خواتین اپنے نامناسب پردے کی وجہ سے پہلے ہی قوم کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہوتی ہیں۔ حج ختم ہونے کے بعد عبایا تو اتر ہی جاتے ہیں۔ حج ٹرمینل پر دوپٹے بھی  گلوں میں آجاتے ہیں ۔ اور اپنے ملک پہنچ کر  ابھی ائر پورٹ سے باہر نہیں نکلتے کہ گالیوں کا تبادلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی ہوتا ہے۔کچھ حاجی صاحبان سعودیہ سے کافی زیادہ خریداری کرتے ہیں اور نتیجہ میں انہیں ائر پورٹ پر اضافی رقم دینی پڑتی ہے۔ یہاں پر ائرپورٹ کا عملہ آپ کے ایمان اور امانت کا امتحان لینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ دھیان رکھنا چاہئے کہ کوئی اور دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ حج کے موقعہ پر جو آپ نے اپنے رب سے تجدید عہد کیا تھا اسے ساری عمر یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہئے کہ حج کے ثمرات اور اس کی برکتیں دونوں جہاں میں ہمارے ساتھ ساتھ رہیں۔
This is an exclusive piece for saach.tv

Monday, September 17, 2012

توہین آمیز فلم----احمد اویس (سچ ٹی وی)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

توہین آمیز فلم
احمد اویس
اور اب ایک مزید فلم اسلام کے خلاف تیار کر لی گئی ہے۔ نجانے ان لوگوں پر کیا بھوت سوار ہے کہ پے در پے توہین اسلام کرتے چلے جا رہے ہیں۔ہر دفعہ پہلے سے زیادہ شدید ردعمل سامنے آمنے کے باوجود ان کے کلیجوں میں لگی تعصب کی آگ  کسی طرح ٹھنڈی ہونے میں ہی نہیں آرہی۔ اور تو اور یہ کوئی ایک دو افراد یا کسی انتہا پسند تنظیم کی کارستانی نہیں بلکہ جسے بھی دیکھو  ایک نئے طریقے سے اسلام جیسے مذہب پر کیچڑ اُچھالنا شروع کر دیتا ہے۔ ان کا سارا نظام بشمول ان کی حکومت  اس شیطانی کارستانی پر خاموش مجرم کا کردار ادا کرتی ہے۔
ایک مسلمان چاہے وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو، وہ کتنا ہی بے عمل اور گناہ گار ہو، کتنا ہی روشن خیال اور ترقی پسند ہو جائے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے دل سے نہیں نکلتی۔ وہ ساری چیزیں برداشت کر لیتا ہے مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کو خطرے میں نہیں دیکھ سکتا۔ اب کی بار بھی یہی ہوا کہ ہر طبقہ فکر سے اس شرارت کے خلاف آواز بلند ہوئی ہے۔ تمام لوگوں نے چاہے وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی بھی سیاسی وابستگی اپنائے ہوئے ہوں، اپنے اپنے دائرے میں موثر احتجاج کیا۔ حکومتی سطح پر بھی ایسی ویب سائٹس کو بلاک کرنا اور  سفارتی احتجاج قابل تحسین ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ ہی  پر تشدد احتجاج کی مذمت بھی ضروری ہے۔
  اس دفعہ جہاں پورا عالم اسلام ہی اس ملعون حرکت کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے وہیں مصر ان سب میں پیش پیش ہے۔ایک طرف تو یہ وہاں کی حکومت کے لیے امتحان ہے کہ کیسے وہ اپنے  شہریوں کی توقعات پر پورا اترتی ہے وہیں دوسری طرف مغربی میڈیا اور ان کی حکومتیں اس سے فائدہ اٹھا کر مصر کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کرنے کی تیاریوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے ایک بات ہے اگر مصر مغرب کے دباؤ کے باوجود اپنے موقف پر صحیح طور پر جما رہے تو وہ عالم اسلام کی ایک متفقہ قیادت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ پاکستان نے جب سے اپنی یہ پوزیشن چھوڑی ہے تو عام طور سے عالم اسلام ترکی اور مصر ہی کی طرف دیکھتا ہے کہ شاید وہاں سے کوئی امید کی کرن نظر آجائے۔ اور اکثر و بیشتر وہ مایوس بھی نہیں کرتے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ فلم بنانے والوں پر اس احتجاج کا کوئی اثر ہو اور وہ  اس کا نوٹس لیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے پر معافی مانگیں۔ ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے۔ آیندہ ایسے واقعات نہ دہرائے جانے کے متعلق کوئی قانونی اور عدالتی فیصلہ سامنے لایا جائے۔ مگر پہلے کی طرح اب بھی کوئی مثبت رویہ سامنے آنے کی بجائے امریکا بہادر کبھی تو کہتا ہے کہ اس میں ہم شریک نہیں ہیں، ہم لاعلم تھے کہ اس میں کوئی توہین اسلام کا پہلو بھی نکل آئے گا۔ اور کبھی اپنے سفیر کا نقصان کر کے یہ کہتا ہے کہ امریکیوں کی جان بچانے کے لیے تمام وسائل برئے کار لائے جائیں گے۔ گویا امریکا کے علاوہ اور کسی کو اپنی آزاد مرضی سے یہاں سانس لینے کا حق ہی نہیں۔ ان کے لوگ جو کچھ چاہیں کرتے رہیں کوئی روکنے والا نہیں ہونا چاہیے۔
دیکھنا چاہیے کہ آخر ہم میں کیا خرابی ہے کہ  ایک واقعہ کے بعد ایک اور واقعہ سر اٹھا کر چلا آتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کی تو خیر بات ہی کیا۔ عام عوام بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ بنیادی عقائد تک سے کوئی سروکار نہیں۔ جو لوگ مذہبی سمجھے جاتے ہیں ان کے کردار بھی کوئی اتنے اچھے نہیں ہیں کہ مثال کے طور پر پیش کیے جا سکیں۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والا توہین رسالت  کیس میں بھی اب تک کی جو معلومات آئی ہیں ان میں ہمارے معاشرے کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ہم نے اپنی قیادت ، چاہے وہ محلہ کی سطح کی ہو یا ملکی سطح کی، کے منصب پر فائز ان لوگوں کو کر دیا ہے جو کسی طرح بھی اس کے لائق نہیں ہیں۔ آئے روز ان کی وجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی رہتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یورپ اور امریکا کے غلط اقدامات کے خلاف احتجاج ضرور کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ہی اپنے اندر کی برائیوں کے خلاف بھی کسی جدوجہد  کو لازم قرار دیں ۔ اخلاقی تعلیم کو عام کیا جائے۔ اس زندگی کو سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ گزارا جائے۔ اپنی اناکے خول سے نکلا جائے۔ خدا کی نافرمانی سے بچا جائے اور صرف نبی کریم صلہ اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی خاطراحتجاج کے علاوہ ان کی پیاری اور سچی تعلیمات پر عمل بھی کیا جائے۔ جب تک یہ اندرونی طور پر صفائی کا اہتمام نہیں ہوتا تو مغرب سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ ہمارے احتجاج کے نتیجے میں ان مذموم حرکتوں سے باز آجائیں گے۔
This is an exclusive piece for saach.tv

http://www.saach.tv/2012/09/17/toheen-ameez-film/

Saturday, July 21, 2012

شعبان سے رمضان تک----ایک احساس


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شعبان سے رمضان تک۔۔۔۔۔۔ایک احساس
احمد اویس
شعبان کی آخری رات ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میری زندگی میں یہ مبارک لمحہ کتنی بار آیا ہے اور ہر دفعہ رمضان کی ان گنت رحمتیں اور برکتیں میرے اوپر نچھاور کرتا ہوا یہ وقت پھر چلا جاتا ہے۔ ہر سال کا رمضان میرا آخری رمضان ہوتا ہے جو میں اپنے پیارے رب کی نا فرمانیاں کرتے ہوئے گزارتا ہوں۔ میں اپنے گذشتہ  گناہوں سے معافی مانگتا ہوں۔ آئندہ کے لئے پختہ عہد کرتا ہوں کہ اب کوئی لمحہ بھی خدا کی نافرمانی میں نہیں گزاروں گا۔  وہ رت جگے، وہ خدا کے گھر سے تعلق، وہ سجدوں میں آنسوؤں سے جائے نماز کا بھیگنا، وہ راتوں میں کھڑے ہونا،دن میں اللہ کی پاک کتاب کا پڑھنا، وہ ایثار و قربانی، صدقہ خیرات،  ہمدردی اور غم خواری عید کا چاند نظر آتے ہی ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ پھر اگلے سال تک ان کا  نام و نشان ڈھونڈے سے بھی  نہیں ملتا۔
میری سوچ الجھ کر رہ جاتی ہے۔۔۔۔
مجھے اپنی ساری عبادتیں  اور ریاضتیں مٹی میں ملتی نظر آتی ہیں۔ آخر اللہ میاں کو میرے ان روزوں اور سجدوں سے کیا ملتا ہے جو وہ ہر سال میرے لئے یہ اہتمام کرتے ہیں؟ کیا واقعی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ میں بھوکا پیاسا رہوں ؟ ایک مدت کے لئے نیک اور پارسا بن کر رہوں؟  کچھ مال خرچ کر کے یہ سمجھوں کہ یہ پیسے جس طرح بھی اور جس ذریعے سے بھی کمائے ہیں وہ اب حلال ہو گئے ہیں؟ کیا واقعی جھوٹ بولنے سے میرا روزہ ضائع ہو جاتا ہے؟ اور افطار کے بعد جتنا مرضی جھوٹ بولو  ٹھیک ہوتا ہے؟  نمازوں کی پابندی میں باقی سال میں کیوں نہیں کرپاتا؟ یہ جو کہا جاتا ہے کہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو کیا اس رات کو عبادت کر کے میرے ہزار مہینوں کے  گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟ میری وہ سب نمازیں جو میرے ذمہ ہیں وہ ادا ہو جاتی ہیں؟
میری سوچ مزید الجھ کر رہ جاتی ہے۔۔۔۔
رمضان کے آتے ہی میں اتنا نرم خو اور ہمدرد بن جاتاہوں۔ہر کسی سے میرا تعلق یک دم اچھا ہو جاتا ہے۔ میرے ملازم مجھ سے خوش ہوجاتے ہیں  ۔تو بڑے مجھے ایک اچھا انسان سمجھنے لگتے ہیں۔ میرے ساتھ رہنے والے لوگ تو سوچتے ہوں گے  کہ کاش میرے اوپر ہر وقت ہی رمضان کی کیفیت طاری رہے۔ بھاگ بھاگ کر امی جان کے کام کرنا، دوستوں کی افطاریاں کرانا، غریبوں کو ان کا حق ادا کرنا، رشتہ دار اور ہمسایوں کے گھروں میں مزے مزے کی چیزیں بھیجنا اور راہ چلتے مسافروں کوکھجور کا تحفہ دے کرٗ ایک گلاس شربت پلا کر، ان کے گھروں تک پہنچنے سے پہلے روزہ افطار کرا کے ڈھیروں دعائیں لینا۔ یہ سب مجھے اچھا لگتا ہے لیکن رمضان کے ختم ہوتے ہی میں ایک دوسرا شخص بن جاتاہوں۔
میری سوچ کچھ مزید الجھ کر رہ جاتی ہے۔۔۔۔
مجھےیوں لگتا ہے کہ شاید میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تو یقیناََ رمضان کا مہینہ مجھے بھوکا پیاسا رکھنے کے لئے نہیں بنایا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں جو نیک کام کرتا ہوں ان کا اثر میرے اندر کے انسان  پر نہیں پڑتا۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ عبادت  کا ناقص مفہوم ہے۔ مجھے اللہ میاں سے جس  تعلق کادعویٰ ہے وہ ابھی خام ہے۔ میں اپنے پیارے نبی ﷺ  کو دل و جان سے مانتا تو ہوں مگر ابھی میرے میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ  ان کےکہے کے مطابق اپنی زندگی گزار سکوں۔ صحابہ کرام  رضوان اللہ علیھم اجمعین کو میں اپنا رہنما تو مانتا ہوں مگر  ان کی طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ قرآن پڑھنے  اور سننے سے مجھے سکون تو ملتا ہے مگر اس کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کا تو ابھی وقت نہیں آیا۔ میں مانتا ہوں کہ نماز مجھےجنت تک پہنچانے کاسبب بنےگی لیکن وہ نماز مجھے پڑھنے کی فرصت ہی کہاں ہے۔
میری سوچ کی گرہیں کھلنا شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔
میں سوچتا ہوں کہ میں نے محض کھانے پینے سے رک جانے کو ہی عبادت سمجھ لیا تھا۔ شاید میں یہ سمجھا تھا کہ  رات کو کھڑے ہوکر قرآن کو سننا ہی اصل عبادت ہے۔ مگر اب مجھ پر یہ آشکار ہو رہا ہے کہ  یہ تو وہ ظاہری شکل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کو پانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ محبوب کی محبت کو پانے کے لئے لپک لپک کر آگے بڑھ کر اس کی پسند کے کام کرنے اور اس کی ناپسندیدہ باتوں سے رکنے کے لئے یہ سب اہتمام کیا گیا ہے  ۔یہ تو اس بات کی علامت تھی کہ میرے اندر اللہ تعالیٰ کا اتنا خوف ہو کہ جس چیز میں مجھے فائدہ دکھائی دے مگر اس کو کرنے سے  میرے اللہ نے مجھے روکا ہو تو میں اس سے ہر صورت میں رک جاؤ۔
میری سوچ کی مزید گرہیں کھلنا شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔
  یہ حقیقت مجھ پر عیاں ہوتی ہے  کہ رمضان ایک ایسی مشق کا دورانیہ ہےٗ جس میں مجھے  یہ تربیت دی جاتی ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی  کے لئے اپنے اندر اتنی طاقت پیدا کروں کہ میری اپنی نفسانی خواہشات  بھی مجھے دبا نہ سکیں۔میں اتنا طاقتور ہو جاؤ کہ  دنیا بھر کی طاقتیں اکھٹی ہو جائیں مگر مجھے ایک قدم بھی ڈگمگا نہ سکیں۔ میں ہر طرح کا نقصان اورخطرہ جھیل لوں لیکن اپنے رب کی نا فرمانی نہ کروں۔ میرے اندر اتنی روحانی طاقت آ جائے کہ میرے دل و دماغ ، میری نیت اور ارادہ میرا خیال اور عمل سب کے سب ایک اللہ کی بندگی میں جھک جائیں۔ میرے اندر اس مشق کا اتنا فائدہ ہو کہ رمضان کے بعد بھی میرے اندر سے جھوٹ اور غیبت کی عادت ختم ہو جائے۔ بات بات پر لڑائی اور جھگڑا نہ کروں۔ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھوں۔ اپنی زبان اور اپنے کردار سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی اب میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ  یہ تب ہی ہو گا کہ  جب  میں روزہ کو اس کی اصل غرض اور مقصد کو پیش نظر رکھ کر رکھوں گا۔
میری سوچ کی کچھ مزید گرہیں کھلنا شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔
مجھے پیارے نبی ﷺ کی وہ حدیث سمجھ میں آ گئی ہے کہ  جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا اُن کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور بہت سے راتوں کو کھڑے ہونے والے ایسے ہیں کہ اس قیام سے رت جگے کے سوا اُن کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے کہ محض بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں ہے بلکہ اصل عبادت کا ذریعہ ہے اور اصل عبادت یہ ہے کہ خوف خدا کی وجہ سے خدا کے قانون کی خلاف ورزی نہ ہو اور محبت الہٰی کی بنا پر ہر اس کام کے لئے شوق سے لپکے جانا، جس میں محبوب کی خوشنودی ہو ۔اب میں سمجھ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں روزوں کا حکم دیا وہاں یہ بھی فرمایا کہ شاید کہ تم متقی اور پرہیز گار بن جاؤ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنا ارادہ ،سمجھ بوجھ اور کوشش  اسے اس اصل مقصد کی طرف لے جائے گا۔ ورنہ اگر اصل مقصد پیش نظر نہ ہو تو محض روزہ  پوری طرح فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
حضور اکرم ﷺ کا ایک فرمان  ہمیشہ میرے پیش نظر رہتا ہے کہ جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ روزے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور فرمان مجھے ہر وقت یہ احساس دلاتا ہے کہ  جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی بخشش نہ کرا لی تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ اللہ کریم کا بے پایاں احسان ہے کہ ہمارے اوپر یہ مبارک مہینہ سایہ فگن ہے۔جو مودت، بھائی چارہ، صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے۔ جس میں رحمت ہے، جس میں مغفرت ہے، جس میں جہنم کی آگ سے رہائی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اس رمضان کو  صحیح اہتمام سے گزاریں تاکہ یہ رمضان ہماری زندگیوں میں ایک مثبت اور خوشگوارتبدیلی  لانے والا ثابت ہو۔ آمین۔

Thursday, July 19, 2012