Tuesday, January 29, 2013

" پاکستان کے وفادار، بنگلہ دیش کے غدار " (saach.tv)



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
" پاکستان کے وفادار، بنگلہ دیش کے غدار "
احمد اویس
بالآخر متنازعہ  انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل بنگلہ دیش نے اپنے قیام کے بعد پہلے مجرم کا تعین کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ خصوصی عدالت  عوامی لیگ کے انتخابی منشور کا اہم حصہ تھی جسے انھوں نے اقتدار میں آ کر 2010 میں  قائم کیاتھا ۔ وزیر اعظم  شیخ حسینہ اور ان کی ٹیم کا موقف یہ ہے کہ  1971 کی جنگ آزادی میں بیرونی حملہ آوروں  کے ہمراہ جنہوں نے اپنے دیس کے لوگوں کو قتل کیا یا افواج پاکستان کے 9 ماہ تک جاری رہنے والے آپریشن میں ان کی معاونت کی  ان کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔ یہ انصاف کے منتظر ان تیس لاکھ لوگوں کے خون کا قرض ہے جو پاکستان سے آزادی کی جنگ میں مارے گئے تھے۔
اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اس عدالت کی حیثیت کو متنازعہ کہتی ہیں ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا نقطہ نظر یہ ہے کہ محض سیاسی انتقام کے تحت مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ خود اقوام متحدہ اس عدالت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ہیومن رائٹس کی تنظیمیں جو پہلے اس طرح کی تحقیقات کرانے کے حق میں تھیں اب اس میں خرابیوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ امریکا سمیت دیگر ممالک بھی اس کے طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے تو باقاعدہ  طور پر بنگلہ دیشی حکومت کو خط لکھا اور تمام مقدمات ختم کرنے پر زور دیا۔
اس سب  عالمی دباؤ کے باوجود حکومت نے تمام کاروائی کو اپنے انجام تک  پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔عوامی لیگ بھارت کی حامی جماعت سمجھی جاتی ہے اور اس نے بھارت سے تعلقات کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ خاص کر بنگلہ دیشی حکومت کو توقع  ہے کہ بھارت ، بنگلہ دیش میں اپنی براہ راست سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کرے گا اور اسے 9 بلین ڈالرز تک لے جانے کے منصوبے پائپ لائین میں ہیں۔  اس تناظر میں یہ سارا معاملہ بھارت نوازی کے علاوہ کچھ اور نہیں لگتا۔
کیا واقعی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی صف اول کی قیادت سمیت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے 2 رہنماؤں پر لگنے والے الزامات درست ہیں؟ اور اگر یہ صحیح ہیں تو  ان لوگوں کو اپنا آزادانہ دفاع کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ ابھی اسی مولانا ابوالکلام آزاد کے مقدمہ میں بھی حکومت کی طرف سے جو وکیل صفائی مقرر کیا گیا تھا اس پر بھی وہاں کے لوگوں کو تحفظات تھے۔ اور جس عجلت میں مقدمہ کی  یہ ساری کاروائی مکمل  کی گئی ہے اس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ خاص کر خصوصی عدالت کے چیف جسٹس نظام الحق کے پچھلے ماہ دسمبر والے  سکینڈل،  جس میں انہیں عدالتی کاروائی کے متعلق  معلومات کو بیرون ملک بھیجنے کی ای میلز اور سکائپ ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی اور اس کے نتیجہ میں انہیں مستعفی بھی ہونا پڑا، نے اس پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جنہیں کلی طور پر نظر انداز کرنا بنگلہ دیشی حکومت کے بس میں نہیں۔
1971 کی جنگ جسے بنگلہ دیشی عوام نے پاکستان سے نجات حاصل کرنے کے لیے لڑا تھا اور بھارتی فوج کی مدد کے ساتھ اسے جیت بھی لیا تھا اور اسی جنگ کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کے بارے میں ایک پاکستانی اور بنگلہ دیشی کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔  لیکن 40 سال پہلے کے مقدمات کو کھولنا جب نہ تو کوئی گواہ پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں محض پاکستان کے خلاف تعصب کے علاوہ کچھ نہیں۔  جن اپوزیشن رہنماؤں پر الزامات لگے ہیں وہ 40 سال تک اسی ملک میں موجود رہے۔ ملکی ترقی اور سیاست میں بخوبی اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ان سےکبھی ملک کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کا ثبوت نہیں ملا۔ خالدہ ضیاء کے دور میں وہ حکومت کے سب سے اہم اتحادی اور وزارتوں پر فائز لوگ تھے۔ جماعت اسلامی کو وہاں کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس طرح کے بھونڈے الزامات  جو دراصل پاک فوج کے خلاف جاتے ہیں ،عوام کےمنتخب نمائندوں کو پابند سلاسل کرنا کوئی دانش مندی  نہیں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور   تمام فریقوں کی رضا مندی سے اس طرح کی کوئی کاروائی کرے۔
This is an exclusive piece for saach.tv