Friday, February 7, 2014

ترکی میں اسلام پسندوں کی باہمی کشمکش

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ترکی میں اسلام پسندوں کی باہمی کشمکش؛ چند غور طلب پہلو


احمد اویس



            یونی ورسٹی کے چند طالب علموں اور کچھ چھوٹے تاجروں نے 1960 کی دہائی کےآخر میں مل جل کر  ایک ہاسٹل کی بنیاد رکھی۔ جہاں طلبا کو رہایش کے علاوہ اچھے اخلاق سکھلانے اور بری صحبت سے بچانے کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا یہ اس ہاسٹل کی خاص بات تھی۔ جلد ہی یہ سلسلہ دور دراز سے آئے ہوئے طلبا کے والدین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان ہاسٹلوں میں زیر تربیت نوجوان بڑھتے چلے گئے اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو نئی نسل کی بہترین اور مبنی بر اخلاق تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے سکول کھولے ، ٹیوشن سنٹر بنائے اور معاشرے میں اسلام کی پیش کردہ اقدا رکو پروان چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔

ترکی جو کبھی خلافت عثمانیہ کا صدر مقام اور مسلم دنیا کا مرکز ہوا کرتا تھا، وہاں کی پر شکوہ مساجد میں تب سے کچھ عرصہ پہلے عربی میں اذان دینے تک پر پابندی تھی۔ ریاست مکمل طور پر سیکولر تھی۔ اسلام کو اجتماعی زندگی میں کوئی دخل نہ تھا۔ مذہب کی بنیاد پر  کوئی تنظیم قائم نہیں ہو سکتی تھی۔  اس ماحول میں ان لوگوں نے دعوت و تبلیغ کو اپنا منہج بنایا۔  بغیر کسی تنظیمی بنیاد کے یہ لوگ اسلام  کا پیغام دل سے دل تک پھیلاتے چلے گئے۔ ان  کا کوئی دفتر تھا نہ کوئی عہدہ  ،کوئی بڑا کوئی چھوٹا نہ تھا۔ بس ایک لگن اور جستجو تھی جو ان سب کو آپس میں جوڑے ہوئے تھی۔

 1980 کی دہائی میں ان لوگوں نے پہلے اخبار اور بعد میں اپنا ریڈیو اور ٹی وی چینل بھی کھول لیا۔ انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ترکی کا سب سے پہلا اخبار جو آن لائن ہوا وہ انہی لوگوں کی سوچ پر مبنی "روزنامہ زمان "تھا۔   یہ جریدے ترکی کے صف اول  میں شمار ہوتے ہیں۔ ملکی زبان  کے علاوہ دس مزید زبانوں میں بھی یہ اپنی خدمات دنیا بھر کے لوگوں کو فراہم کر رہے ہیں۔ ان سب کا مقصد بھی  وہی تھا کہ معاشرے میں گرتی ہوئی اقدار کو بچایا جائے۔

سال پہ سال گزرتے رہے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل نا صرف ترکی کے اعلیٰ اداروں میں اپنی خدمات دینے لگے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں دن رات مصروف ہو گئے۔ ساتھ کے ساتھ انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے اور ہاسٹل دوسرے ملکوں میں بھی کھولنے شروع کر دیئے۔ دنیا کے 140 سے زائد  ممالک میں  آج ان  کے سکول چل رہے ہیں ۔ پچھلے دو عشروں سے یہ تعلیمی ادارے پاکستان کے کئی بڑے شہرو ں میں ہزار ہا بچوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم کےعلاوہ مذہبی اقدار سے آراستہ کر چکے ہیں۔ سینکڑوں ترک نوجوان مرد و زن اپنا دیس چھوڑ کر پاکستان میں  فروغ تعلیم کے اس مشن سے وابستہ ہیں۔

تعلیم و تربیت ہی ان کا اصل میدان ہے لیکن اس کے علاوہ خدمت خلق کے کاموں  میں بھی یہ کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ پاکستان میں زلزلہ متاثرین کی آباد کاری میں انہوں نے خاطر خواہ کام کیا۔ زلزلہ متاثرین کے علاوہ  جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرین کے لیے انہوں  کئی سو گھر بنا کر بھی دیئے۔ عید قربان پر گوشت کی تقسیم اور رمضان میں ہزاروں افراد کو افطار اس کے علاوہ ہیں ۔ پاکستان میں یہ لوگ اب تک آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر چکے ہیں ۔ صرف  چند سالوں میں مکمل ہونے والےمنصوبہ جات  کاتخمینہ 30ملین ڈالر سے زیادہ کا ہے۔  

یہ سب لوگ جو کسی باقاعدہ تنظیم کا حصہ نہیں بلکہ ترکی کی ایک روحانی  شخصیت فتح اللہ گولن کے افکار سے متاثر ہیں۔ ترکی کی عدالتوں میں ان پر کچھ عرصہ پہلے ملک کو سیکولر سے  "اسلامسٹ" سٹیٹ میں بدلنے کا الزام تھا چنانچہ  انہوں نے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی  اختیار کر لی۔ انہیں پنجاب یونی ورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دے رکھی ہے۔  اگرچہ یہ عملی سیاست سے دور ہیں مگر ترکی کی سیاست اور ریاستی اداروں میں ان کا اچھا خاصا وزن  موجود ہے۔  کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ترکی کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے اندر بھی موجود ہیں۔

ترکی کے مایہ ناز سائنسدان  نجم الدین اربکان نے 1969 میں قومی نظریہ (ترکی: Millî Görüş) پیش کیا۔ اپنی پہلی سیاسی جماعت "ملی نظام" کے نام سے قائم کی۔ اس سے پہلے وہ جرمنی سے ڈاکٹریٹ اورآٹوموبائل سیکٹر میں دقیق تحقیقات کرچکے تھے۔ان کی اس تحقیق اور تجربوں کی بدولت  ترکی اپنی پہلی گاڑی جو مقامی طور پر تیا ر کی گئی تھی، بنانے میں کامیاب ہوا۔  آج ترکی دنیا کا زیادہ گاڑیاں بنانے والا سولہواں اور یورپ کا چھٹا بڑا ملک ہے ۔ اور گاڑیوں کی ایکسپورٹ سے کثیر زرمبادلہ کما رہا ہے۔

اربکان کے والد خلافت عثمانیہ کے آخری دور میں جج کے فرائض سر انجام دیتے رہے تھے۔ آپ خود سالہاسال تک استنبول کی یونی ورسٹی میں پڑھاتے رہے۔    ترکی کی ترقی خاص کر آٹو موبائل  سیکٹر میں اپنے وسیع بین الاقوامی تجربہ کی بنیاد پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔   انجن بنانے کی فیکٹری لگائی۔   ترکی کے تمام چیمبرز آف کامرس کی اجتماعی تنظیم کے سربراہ بھی رہے۔ 1969 میں سیاست کا آغاز کیا اور قونیہ سے اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جلد ہی ان کی جماعت پر اسلام پسندی کا لیبل لگا کر پابندی لگا دی گئی۔  ترکی کی سیکولر فوج اور عدالتیں یکے بعد دیگرے اربکان کی ایک کے بعد دوسری قائم ہونے والی جماعتوں پر پابندی لگاتی چلی گئیں۔ خود کئی سال تک ان پر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی رہی۔

1987 میں ان کی پارٹی( اس وقت رفاہ پارٹی کے نام سے وہ میدان سیاست میں موجود تھے) نے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور 1995 کے عام انتخابات میں یہ ترکی کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ نجم الدین اربکان ترکی کے پہلے اسلام پسند وزیر اعظم بنے۔ اگرچہ جلد ہی فوج نے ان سے استعفیٰ لے لیا لیکن انہوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں ترکی کی معیشت کو پاؤں پہ کھڑا کرنے کے لیے بنیادی کام کیے۔ بیرونی قرضوں سے آزاد بجٹ پیش کیا۔ ترقی پذیر مسلم ممالک پر مشتمل تجارتی بلاک ڈی 8 (Developing Eightبنایا۔

             رفاہ پارٹی پر پابندی لگنے کے بعد  فضیلت پارٹی  وجود میں آئی۔ اس کی ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ نے سکارف اتارنے سے انکا ر کردیا تو وہ پارٹی ہی بین کردی گئی۔ اسی کے ایک رہنما  طیب اردگان نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بنائی جو 2002 کے الیکشن میں فتح یاب ہوئی اور اس پارٹی نے اپنے پہلے وزیر اعظم کے طور پر عبد اللہ گل کو منتخب کروایا۔ ترکی کے فوجی چیف نے ان کی حلف برداری کی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ بعد میں طیب اردگان نے وزیر اعظم کا عہدہ اور عبد اللہ گل نے وزارت خارجہ  کا قلم دان سنبھالا۔ عبد اللہ گل نے ترکی کے بیرونی دنیا سے تعلقات میں نئے دور کا آغاز کیا۔ یورپی یونین کی ممبرشپ جو ترکی کا ایک پرانا مسئلہ چل رہا تھا اس پر کافی پیش رفت کروائی۔ 2007 میں عبداللہ گل ترکی کے پہلے صدر بنے جن کی اہلیہ سکارف لیتی ہیں۔ عبداللہ گل مسلم اور غیر مسلم دنیا کے وہ واحد حکومتی سربراہ ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کے خلاف کاروائی پر باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھیجا۔

             جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی
(AKP)کے دور میں پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں میں سکارف پہننےکی اجازت ملی۔ دستور میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ فوج کے  سربراہ کو حکومت نے اپنی صوابدید سے مقرر کیا۔ سابق سربراہ سمیت  کئی فوجی افسران کو حکومت کے خلاف بغاوت پرسزا ہوئی۔ معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنے لگا۔ جب یورپ اور امریکا کسادبازاری کا شکار تھے تو بھی ترکی کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی۔  بیروزگاری میں کمی اور ذاتی کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر لائی گئی۔ نیٹو کا اہم اتحادی اور امریکا کے دباؤ کے باوجود افغانستان اپنی فوجیں بھیجنے سے انکار کیا۔ اسرائیل سے برسوں کے دوستانہ تعلقات کے باوجود سخت رویہ اپنایا۔ خاص طور پر فلسطینیوں کے محاصرہ کے خلاف امدادی جہاز بھیجا جس پر اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا ۔ اس قضیہ پراسرائیل کو معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ اور اسرائیل  20 ملین ڈالر ہرجانہ دینے پرتیار ہوا۔ بیرونی دنیا میں مسلم اور خاص کر خطہ کے عرب ممالک سے تعلقات میں گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔

             طیب اردگان نے مسلسل تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے۔ وہ ترکی کی تاریخ کے مقبول ترین رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔معاشی اور سیاسی کامیابیوں  کے باوجود پچھلے کچھ عرصہ سے ترکی میں ان کے خلاف مظاہرے ہوئے اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیراعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دیں۔ زیادہ تر مخالفین ان سیکولر لوگوں پر مشتمل ہیں جو اردگان کو ترکی کے سیکولر آئین کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ان کے خلاف جو مظاہرے ہوئے ان کے بارے میں میڈیا میں یہ آیا کہ وہ گولن تحریک کے لوگ ہیں۔ وزیراعظم نے ان سے سختی سے نبٹنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اور گولن تحریک والوں نے اس پر وزیر اعظم کے خلاف میڈیا میں محاذ کھول لیا۔ جب کہ معاشرے کے عام لوگ اس کشمکش کو خود ترکی کے لیے اچھا نہیں سمجھ رہے۔

             بظاہر ان دونوں گروہوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں، دونوں ایک طویل عرصہ سے ترکی کے سیکولر ماحول میں اسلام کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ گو کہ ان کا دائرہ عمل مختلف ہے مگر ان دونوں کا اصل دشمن ایک ہی ہے جو سیکولرزم کے نام سے راستے میں کھڑا ہے۔ اپنے اپنے انداز میں، وقت اور حالات کی مطابقت سے ان دونوں نے کسی نہ کسی حد تک سیکولرزم سے مفاہمت کی ہوئی ہے۔ ترکی کے مخصوص حالات میں اردگان کو گولن تحریک اور گولن تحریک کو اردگان کی ضرورت ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی انھی لوگوں کی مدد سے حکومت بنانے اور فوج کو سیاست سے بیدخل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اسی طرح گولن تحریک کے مشن کی کامیابی کے لیے موجودہ حکومتی پارٹی سے بہتر کوئی اور نہیں ۔

جب صورتحال زیادہ گھنبیر ہونے لگی اور مغربی میڈیا نے ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا تو دونوں جانب سے برف پگلنا شروع ہوئی۔ فتح اللہ گولن نے حکومت کے خلاف مظاہرین سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا ہے اور اپنے پیروکاروں کو حکومت سے محاذ آرائی سے منع کر دیا۔ دوسری جانب حکومت نے بھی معاملات کو سلجھانے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ اور نائب وزیراعظم نے خاص طور پر گولن تحریک کے خلاف کوئی بھی کاروائی کرنے کی تردید کر دی ہے۔

             دنیا کے ہر جمہوری ملک میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام سی بات ہے۔ لیکن یہاں سوچنے کی یہ بات ہے کہ ترکی میں ان مظاہرین کو اتنی زیادہ شدت سے خصوصا ًمغربی میڈیا نے کیوں پیش کیا؟اس سے پہلے مصر میں چند ہزار افراد کی تحریک پر میڈیا نے اتنا شور مچایاکہ فوج نے حکومت کی اصلاح کے نام پر لاکھوں لوگوں کی مرضی سے منتخب ہونے والی اسلام پسندحکومت کو چلتا کیا۔مغربی دانشور اس نظریہ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ملکی دستور اور قانون کا مذہب سے کوئی  ذرا سا بھی تعلق ہو۔ انہیں اس بات پر بھی حذر پہنچتی ہے جب لوگ اسلام کو ملکی نظام کا بالادست قانون بنانے کی بات کرتے ہیں۔ وہ شہریوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے  انہیں مذہبی رسوم ادا کرنے کی بھرپور آزادی کی حمایت تو کرتے ہیں۔ لیکن اسلام کو اجتماعی زندگی میں وہ درجہ دینے کے روادار نہیں جس کے بغیر ایک مسلمان کا ایمان ہی نا مکمل ہے۔

  اس وقت "سیاسی اسلام" کی ناکامی کا جو ڈھنڈورا  پیٹا گیا ہے،  دنیا بھرمیں اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے اس کا ہدف ہیں۔ چاہے وہ مروجہ معنوں میں سیاست کر رہے ہوں یا نہیں۔ انہیں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اسلام بحیثیت نظام اس زمانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ جو تنظیمیں  ملک کے نظم و نسق کو اسلام کے مطابق بدلنے کے لیے کوشاں تھیں انہیں جب اقتدار ملا  بھی تو وہ  ناکام رہیں۔لہذا جتنی آزادی تمہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے میسر ہے اسی پر اکتفا کرو۔  ہمیشہ کی طرح اس جنگ میں  بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ اندرونی طاقتوں کو بھی جانے میں یا انجنانے میں مدمقابل کیا گیا ہے۔ یہ اعلان جنگ کسی خاص ملک کسی خاص تحریک تک ہی محدود نہیں، ہر جگہ اللہ  کے دین  کے غلبہ کے لیے کام کرنے والے حضرات ان مشکلات کا شکارہیں۔  

تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کہانی ہر جگہ کی ایک ہی ہے۔ چاہے مصر میں منتخب حکومت کی برطرفی ہو، بنگلہ دیش میں سب سے بڑی اور مضبوط مذہبی اپوزیشن پر پابندیاں اور سزائیں ہوں۔ شام کےمسلمانوں پر ظلم و ستم ہوں۔ وسطی افریقہ اور برما میں مسلمانوں کا قتل و غارت ہو یا پاکستان میں پرائی جنگ لڑنے کے نتیجے میں امن و سکون کی بربادی ہو۔ ایسے میں ایک جیسے ذہن رکھنے والے لوگوں کو مل جل کر ہی اس مشترکہ دشمن سے نبٹنا چاہئے۔ لیکن اتحاد کی فضا قائم کرنا اس بارے میں بات کرنے سے کہیں مشکل ہے۔ یہ مسلم قیادتوں کا فرض ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے نئے سرے سے صفوں کو سیدھا کریں۔ اور اپنے فکری و تنظیمی اثاثوں کو صحیح سمت میں لگائیں تا کہ امت کو اس کے مثبت نتائج مل سکیں۔